ابنا: کل جماعتی امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ گذشتہ بیس سال سے جاری دہشت گردی کے دوران کسی ایک دہشت گرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ آج ملک میں سزائے موت ختم کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ سزائے موت کے خاتمے سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا سوائے اس کے چارہ نہیں ہے کہ تمام لوگ مل کر زیادتی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ آج اس کانفرنس میں گلگت بلتستان کی بات نہیں کی گئی، جہاں لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناخت کرکے مارا گیا۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ تحقیقاتی کمیشن بنائے جاتے ہیں لیکن حقائق عوام کے سامنے پیش نہیں کئے جاتے۔ آخر دہشت گرد اتنے طاقتور کیسے ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل تکفیر کا سلسلہ جاری گیا گیا۔ اب بھی ریاست کے ادارے تکفیریوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ عوام کو بتایا جائے کہ پاکستان میں جاری جنگ کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔ ڈرامے رچائے جاتے ہیں کہ دہشت گرد گرفتار کر لئے گئے، کیا آج تک کسی کو منظر عام پر لایا گیا۔ علامہ سا جد نقوی کا کہنا تھا کہ ڈائیلاگ سے دہشت گردوں کے حوصلے مزید بلند ہوجائیں گے۔ دہشت گردوں سے مذاکرات کا آغاز کرنے سے قبل مضبوط ضمانتیں لی جائیں۔
.......
/169